Lawzana Lawzana Logo

اٹک میں گود لینا کے بہترین وکلا

اپنی ضرورت ہمیں بتائیں، لا فرمز خود آپ سے رابطہ کریں گی۔

مفت۔ 2 منٹ لگتے ہیں۔

خاندانی وکیل مقرر کرنے کی مفت گائیڈ

Sardar Tauseef Law Associates
اٹک, پاکستان

2008 میں قائم
ٹیم میں 50 افراد
Urdu
English
خاندان گود لینا تنسیخ نکاح +16 مزید
Sardar Tauseef Law Associates is law firm based in Attock, adjacent to Rawalpindi, Islamabad and bordering KPK. Attock has a bar of 500 plus lawyers where our law firm is sustaining and flourishing every day with its diverse team and unique services, as we have a state of the art head office in the...
جہاں ہمارا ذکر ہوا

پاکستان گود لینا وکلا کے جواب دیے گئے قانونی سوالات

ہمارے 3 قانونی سوالات گود لینا کے بارے میں پاکستان میں دیکھیں اور وکلا کے جوابات پڑھیں، یا اپنے سوالات مفت پوچھیں.

اپنی بہن یا کزن سے قانونی طور پر بچہ گود لینے کا طریقہ کار
گود لینا خاندان امیگریشن
میں بیرونِ ملک مقیم ہوں اور اپنی بہن کے کزن سے ایک بچہ گود لینا چاہتا ہوں۔ اس کا قانونی طریقہ کار کیا ہوگا؟ کیا میں قانونی طور پر بچے کو اپنے ساتھ لے جا سکوں گا؟ کن دستاویزات کو جمع کروانے سے مجھے اس کا ویزا حاصل ہوگا، اور...
وکیل کا جواب KBL & Associates کی جانب سے

پاکستان میں مسلمانوں کے لیے باقاعدہ گود لینے (ایڈاپشن) کا کوئی قانونی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔ اس کا قانونی راستہ سرپرستی (گارڈین شپ) کا حصول ہے، اور غیر ملکی امیگریشن حکام بھی اسی کا جائزہ لیتے ہیں: سرپرستی کا...

مکمل جواب پڑھیں
1 جواب •
بچے کو گود لینا
گود لینا خاندان
میں ایک غریب خاندان سے بچہ گود لینا چاہتا ہوں، لیکن مجھے خدشہ ہے کہ کہیں وہ مستقبل میں اپنے بچے کی واپسی کا دعویٰ نہ کر دیں۔ مجھے کیا کرنا چاہیے؟
وکیل کا جواب KBL & Associates کی جانب سے

پاکستانی قانون مسلمانوں کے لیے باقاعدہ گود لینے کا کوئی تصور فراہم نہیں کرتا، لہٰذا اس سلسلے میں تحفظ صرف باضابطہ قانونی سرپرستی (گارڈین شپ) کے ذریعے ہی حاصل ہو سکتا ہے: سرپرستی کا سرٹیفکیٹ (گارڈین شپ سرٹیفکیٹ): گارڈینز اینڈ...

مکمل جواب پڑھیں
1 جواب •
بچہ گود لینا
بچوں کی تحویل خاندان گود لینا
میں نے اپنی ہمشیرہ سے سالگرہ پر بچی کو گود لیا تھا اور اب ماشاء اللہ لے پالک بچی کی عمر 14 سال ہے۔ اب میری بہن اپنی بیٹی واپس لینا چاہتی ہیں، جبکہ بچی کا چائلڈ رجسٹریشن فارم (ب-فارم) اور پاسپورٹ میرے نام پر ہے اور وہ میرے ہمراہ...
وکیل کا جواب KBL & Associates کی جانب سے

ہمیں آپ کی اہلیہ کی وفات پر دلی افسوس ہے۔ اس معاملے میں چند حقیقت پسندانہ قانونی نکات درج ذیل ہیں: قانونی حیثیت: پاکستانی قانون ایسے کسی بھی گود لینے (تبنیت) کو تسلیم نہیں کرتا جس سے ولدیت منتقل ہو۔...

مکمل جواب پڑھیں
1 جواب •

اٹک میں بچے کی قانونی سرپرستی لینے کا عملی طریقہ

پاکستانی قانون میں عام طور پر مغربی طرز کی مکمل گود لینے کی بجائے بچے کی قانونی سرپرستی، کفالت اور حضانت کا طریقہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اٹک میں درخواست عموماً متعلقہ گارڈین عدالت یا فیملی عدالت کے ذریعے دائر ہوتی ہے، جہاں بچے کی فلاح کو بنیادی اہمیت دی جاتی ہے۔

عدالت والدین یا سرپرست بننے کے خواہش مند افراد کی شناخت، رہائش، مالی استطاعت اور ازدواجی حیثیت دیکھ سکتی ہے۔ بچے کے حقیقی والدین، موجودہ نگہداشت کرنے والے یا متعلقہ سرکاری ادارے کو نوٹس بھی دیا جا سکتا ہے۔

عدالت سے سرپرستی کا حکم ملنے کے بعد نادرا میں بچے کا ریکارڈ، ب فارم یا دیگر شناختی دستاویزات درست طریقے سے بنوانا ضروری ہو سکتا ہے۔ مذہبی نسبت، نسب اور وراثت کے معاملات میں سرپرستی کو حقیقی نسب یا قانونی گود لینے کے برابر نہیں سمجھا جاتا۔

اٹک میں قانونی سرپرستی کے لیے وکیل کب ضروری ہو سکتا ہے؟

  • جب بچے کے حقیقی والدین میں اختلاف ہو، یا کوئی والدین سرپرستی پر اعتراض کر رہا ہو۔
  • جب بچہ یتیم، لاوارث یا کسی سرکاری تحفظی ادارے کی نگرانی میں ہو اور عدالت سے اجازت درکار ہو۔
  • جب درخواست گزار اٹک سے باہر رہتا ہو، بیرون ملک مقیم ہو، یا اس کے شناختی اور رہائشی ریکارڈ مختلف اضلاع سے متعلق ہوں۔
  • جب بچے کی پیدائش، نسب، والدین کی رضامندی یا پہلے سے موجود عدالتی حکم کے بارے میں دستاویزات نامکمل ہوں۔
  • جب سرپرستی کے ساتھ نادرا ریکارڈ، سفری دستاویزات، تعلیم یا طبی فیصلوں کے لیے واضح عدالتی اختیار درکار ہو۔
  • جب کسی رشتہ دار نے بچے کی حضانت سنبھال رکھی ہو، مگر مستقل قانونی سرپرستی کا حکم موجود نہ ہو۔

اٹک میں لاگو اہم قوانین اور قواعد

گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ 1890: یہ قانون عدالت کو نابالغ کی سرپرستی مقرر کرنے اور بچے کی فلاح، عمر، جنس، مذہب، رشتہ داری اور حالات کا جائزہ لینے کا اختیار دیتا ہے۔ اٹک میں سرپرستی کی درخواست کا بنیادی قانونی فریم ورک عموماً یہی قانون فراہم کرتا ہے۔

ویسٹ پاکستان فیملی کورٹس ایکٹ 1964: پنجاب میں فیملی عدالتوں کے دائرۂ اختیار اور طریقۂ کار سے متعلق قانون ہے۔ سرپرستی یا حضانت سے متعلق معاملہ کس عدالت میں دائر ہوگا، یہ بچے کی رہائش، فریقین اور دعوے کی نوعیت پر منحصر ہو سکتا ہے۔

پنجاب ڈیسٹی ٹیوٹ اینڈ نیگلیکٹڈ چلڈرن ایکٹ 2004: یہ قانون بے سہارا اور نظرانداز شدہ بچوں کے تحفظ، نگہداشت اور متعلقہ سرکاری اداروں کے کردار سے متعلق ہے۔ ایسے بچے کو خاندان کے حوالے کرنے یا سرپرستی میں دینے سے پہلے محکمہ جاتی جانچ اور عدالتی تقاضے لاگو ہو سکتے ہیں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

کیا پاکستان میں قانونی طور پر بچہ گود لیا جا سکتا ہے؟

پاکستان میں مکمل گود لینے کا ایسا جامع نظام موجود نہیں جو بچے کا نسب خود بخود نئے والدین سے جوڑ دے۔ عملی طور پر عدالت سے قانونی سرپرستی یا کفالت حاصل کی جاتی ہے، جبکہ بچے کا حقیقی نسب برقرار رہتا ہے۔

اٹک میں سرپرستی کی درخواست کہاں دائر ہوتی ہے؟

درخواست عموماً بچے کی معمول کی رہائش یا متعلقہ فریقین کے دائرۂ اختیار والی گارڈین عدالت میں دائر ہوتی ہے۔ اٹک میں متعلقہ عدالت ضلع کچہری کے عدالتی نظام کا حصہ ہو سکتی ہے، مگر درست فورم کا تعین وکیل سے کرانا بہتر ہے۔

سرپرست بننے کے لیے کون اہل ہو سکتا ہے؟

عدالت درخواست گزار کی عمر، کردار، صحت، مالی حالات، رہائش اور بچے کی نگہداشت کی صلاحیت دیکھتی ہے۔ صرف رشتہ دار ہونا کافی نہیں، کیونکہ فیصلہ ہمیشہ بچے کی فلاح کے معیار پر ہوتا ہے۔

کیا شادی شدہ جوڑا ہی بچے کی سرپرستی لے سکتا ہے؟

ایسی کوئی عمومی شرط نہیں کہ ہر درخواست لازماً شادی شدہ جوڑا دائر کرے۔ عدالت حالات کے مطابق اکیلے شخص یا رشتہ دار کی درخواست بھی دیکھ سکتی ہے، لیکن بچے کی مناسب پرورش اور تحفظ ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے۔

کیا حقیقی والدین کی رضامندی لازمی ہے؟

اگر حقیقی والدین زندہ اور معلوم ہوں تو ان کی رضامندی یا موقف عموماً اہم ہوتا ہے۔ تاہم عدالت رضامندی کے باوجود بچے کی فلاح، جبر کے امکان اور قانونی دستاویزات کی مکمل جانچ کرتی ہے۔

سرپرستی کا مقدمہ مکمل ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

مدت مقرر نہیں ہوتی، کیونکہ نوٹس، جواب، شہادت، سماجی جانچ اور عدالتی مصروفیات مختلف ہو سکتی ہیں۔ غیر متنازع معاملہ چند ماہ میں آگے بڑھ سکتا ہے، جبکہ اعتراض یا نامکمل دستاویزات سے زیادہ وقت لگتا ہے۔

اٹک میں وکیل کی فیس کتنی ہو سکتی ہے؟

فیس مقدمے کی نوعیت، فریقین کے اختلاف، پیشیوں کی تعداد اور دستاویزات کی پیچیدگی کے مطابق بدلتی ہے۔ وکیل سے تحریری طور پر پیشہ ورانہ فیس، عدالتی اخراجات، نوٹس اور دستاویزات کی الگ الگ لاگت پوچھنی چاہیے۔

سرپرستی کی درخواست کے لیے کون سی دستاویزات درکار ہوتی ہیں؟

عام طور پر درخواست گزار کے شناختی کارڈ، شادی کا ثبوت، رہائش، آمدن یا ملازمت، بچے کا پیدائشی ریکارڈ اور دستیاب والدین یا سرپرست کی معلومات درکار ہوتی ہیں۔ اصل تقاضے مقدمے کے حقائق کے مطابق بدل سکتے ہیں، اس لیے نقول کے ساتھ اصل دستاویزات بھی تیار رکھیں۔

کیا سرپرستی کا حکم بچے کا نام یا نسب تبدیل کر دیتا ہے؟

نہیں، سرپرستی کا حکم عموماً بچے کے نسب کو تبدیل نہیں کرتا۔ شناختی دستاویزات میں نام، والدین اور سرپرست کی تفصیل درج کرنے کا طریقہ نادرا کے قواعد اور عدالتی حکم کے مطابق ہوگا۔

کیا سرپرست بچے کی جائیداد فروخت کر سکتا ہے؟

سرپرست کو بچے کی جائیداد کے بارے میں آزادانہ اختیار حاصل نہیں ہوتا۔ بچے کے مالی مفاد کو نقصان پہنچانے والے لین دین کے لیے عدالت کی پیشگی اجازت اور مخصوص قانونی کارروائی درکار ہو سکتی ہے۔

عدالتی سرپرستی اور عارضی حضانت میں کیا فرق ہے؟

حضانت سے مراد عموماً بچے کی روزمرہ نگہداشت اور رہائش ہے، جبکہ قانونی سرپرستی میں بچے کے شخص یا جائیداد سے متعلق وسیع تر ذمہ داریاں شامل ہو سکتی ہیں۔ عدالت دونوں معاملات کو بچے کی فلاح اور موجودہ حالات کے مطابق الگ یا مشترکہ طور پر دیکھ سکتی ہے۔

کیا سرپرستی ملنے کے بعد بچہ بیرون ملک لے جایا جا سکتا ہے؟

سرپرستی کا حکم خود بخود بیرون ملک لے جانے کی اجازت نہیں دیتا۔ پاسپورٹ، سفری اجازت، نادرا ریکارڈ اور بعض صورتوں میں عدالت یا حقیقی والدین کی رضامندی کے الگ تقاضے ہو سکتے ہیں۔

اٹک میں سرکاری اور مستند وسائل

  • ضلع کچہری اٹک اور متعلقہ گارڈین یا فیملی عدالت: سرپرستی، حضانت اور بچے کی فلاح سے متعلق عدالتی درخواستیں، نوٹس اور احکامات کا فورم فراہم کرتی ہے۔
  • پنجاب چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو: بے سہارا، لاوارث یا خطرے سے دوچار بچوں کے تحفظ، عارضی نگہداشت، سماجی جانچ اور متعلقہ قانونی کارروائی میں کردار ادا کرتا ہے۔
  • نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی: بچے کی پیدائش، شناختی دستاویزات، ب فارم اور سرپرستی کے عدالتی حکم سے متعلق ریکارڈ کے معاملات دیکھتی ہے۔

اٹک میں مناسب وکیل تلاش کرنے اور مقرر کرنے کے اگلے مراحل

  1. پہلے بچے کی رہائش، موجودہ نگہداشت، حقیقی والدین اور کسی سابقہ عدالتی حکم کی مکمل معلومات جمع کریں۔ یہ ابتدائی تیاری عموماً ایک سے تین دن میں ہو سکتی ہے۔
  2. اٹک میں گارڈین اور فیملی مقدمات کرنے والے دو یا تین وکلا سے مشورہ لیں، اور ان سے اسی نوعیت کے مقدمات کا عملی تجربہ پوچھیں۔
  3. شناختی کارڈ، نکاح نامہ، بچے کا پیدائشی ریکارڈ، رہائش اور آمدن سے متعلق دستاویزات کی فہرست وکیل سے تصدیق کرائیں۔
  4. وکیل سے تحریری طور پر عدالت، درخواست کی نوعیت، ممکنہ فریقین، متوقع پیشیوں اور سرکاری اخراجات کی وضاحت لیں۔
  5. وکیل کے ذریعے درست دائرۂ اختیار والی عدالت میں سرپرستی کی درخواست دائر کرائیں، پھر نوٹس اور جواب کی کارروائی باقاعدگی سے مانیٹر کریں۔
  6. سماجی جانچ، گواہی یا بچے کی عدالت میں پیشی کی ضرورت ہو تو مقررہ تاریخ پر مکمل تعاون کریں؛ اس مرحلے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔
  7. حکم ملنے کے بعد مصدقہ نقل حاصل کریں، پھر نادرا اور دیگر متعلقہ اداروں میں بچے کا ریکارڈ درست کرائیں۔

Lawzana قانونی ماہرین کی ہماری ڈائریکٹری کے ذریعے اٹک میں بہترین وکلا اور لا فرمز تلاش کرنے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔ ہمارا پلیٹ فارم وکلا اور لا فرمز کی درجہ بندی اور تفصیلی پروفائل پیش کرتا ہے، جن کی مدد سے آپ قانونی شعبوں، بشمول گود لینا، تجربے اور کلائنٹس کی رائے کی بنیاد پر موازنہ کر سکتے ہیں۔

ہر پروفائل میں فرم کے قانونی شعبوں کی تفصیل، کلائنٹ ریویوز، ٹیم کے ارکان اور پارٹنرز، قیام کا سال، بولی جانے والی زبانیں، دفاتر کے مقامات، رابطہ معلومات، سوشل میڈیا پر موجودگی اور شائع شدہ مضامین یا وسائل شامل ہوتے ہیں۔ ہمارے پلیٹ فارم پر زیادہ تر فرمز انگریزی بولتی ہیں اور مقامی اور بین الاقوامی دونوں طرح کے قانونی معاملات کا تجربہ رکھتی ہیں۔

اٹک, پاکستان میں اعلیٰ درجہ کی لا فرمز سے تیزی کے ساتھ، محفوظ طریقے سے اور بلا وجہ الجھن کے تخمینہ حاصل کریں۔

اعلان لاتعلقی:

اس صفحے پر دی گئی معلومات صرف عمومی آگاہی کے لیے ہیں اور قانونی مشورہ نہیں ہیں۔ ہم مواد کی درستی اور معنویت کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن قانونی معلومات وقت کے ساتھ بدل سکتی ہیں اور قانون کی تعبیر مختلف ہو سکتی ہے۔ اپنی صورتحال کے لیے مخصوص مشورہ ہمیشہ کسی مستند قانونی ماہر سے لیں۔

اس صفحے کے مواد کی بنیاد پر کیے گئے یا نہ کیے گئے اقدامات کی تمام ذمہ داری سے ہم بری الذمہ ہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ کوئی معلومات غلط یا پرانی ہے تو براہ کرم ہم سے رابطہ کریں، اور ہم اس کا جائزہ لے کر مناسب صورت میں اسے درست کر دیں گے۔