Lawzana Lawzana Logo
وکیل تلاش کریں

لیہ میں گود لینا کے بہترین وکلا

اپنی ضرورت ہمیں بتائیں، لا فرمز خود آپ سے رابطہ کریں گی۔

مفت۔ 2 منٹ لگتے ہیں۔

خاندانی وکیل مقرر کرنے کی مفت گائیڈ

ALIYANI
لیہ, پاکستان

2000 میں قائم
ٹیم میں 50 افراد
Urdu
English
Qualified Legal AttorneysMore than 20 legal attorneys work in our legal firm whose only job is to fight legal battles for the clients.Over 5 Years of ExperienceWe have 5 years of experience and based on this experience we have provided excellent services to our numerous clients which has led to our...
جہاں ہمارا ذکر ہوا

پاکستان گود لینا وکلا کے جواب دیے گئے قانونی سوالات

ہمارے 3 قانونی سوالات گود لینا کے بارے میں پاکستان میں دیکھیں اور وکلا کے جوابات پڑھیں، یا اپنے سوالات مفت پوچھیں.

Legally hw to adopt a child frm my sister cousin
گود لینا خاندان امیگریشن
I'm living abroad, and I want to adopt a child from my sister's cousin. What will be the legal procedure? Would I be able to take a child with me legally? Will I get his or her visa by submitting what documents, and how much will it cost me? And... مزید پڑھیں →
وکیل کا جواب Recososa Law Firm کی جانب سے

Hello: We understand your concern about adopting your sister’s cousin’s child while you are living abroad. Allow me to provide you with a clear picture of the legal process presuming this is under Philippine jurisdiction. First, adoption in the Philippines...

مکمل جواب پڑھیں
1 جواب
Child adoptation
گود لینا خاندان
I want to adopt a child from a poor family. But I am worried if they claim to get back their child in the future. What should I do?
وکیل کا جواب Asma Lawyers In Pakistan کی جانب سے

Please get statement of biological parents in court. We are also available to make arrangements. Best regards. Ms Asma Tanveer Randhawa Advocate

مکمل جواب پڑھیں
1 جواب
Child Adoption
بچوں کی تحویل خاندان گود لینا
I was adopted Child from my sister on birthday now Mashallah adopted child's age is 14 years, now my sister wants to return his daughter, Child form in my name, and passport in my name she was travelling with me for umrah, what is the chance of custody if a... مزید پڑھیں →
وکیل کا جواب Asma Lawyers In Pakistan کی جانب سے

Dear Sir. Yes we are able to help by filing a suit against nadra. Please send us a direct messgae

مکمل جواب پڑھیں
1 جواب

لیہ میں بچے کی سرپرستی یا کفالت کا عملی طریقہ

پاکستانی قانون میں گود لینے کا تصور کئی ممالک کی طرح مکمل قانونی نسب منتقل نہیں کرتا۔ لیہ میں عموماً معاملہ بچے کی قانونی سرپرستی، کفالت، تحویل اور شناختی دستاویزات سے متعلق ہوتا ہے۔

درخواست عموماً بچے کی رہائش، موجودہ سرپرست، والدین یا متعلقہ ادارے کے حالات دیکھتے ہوئے لیہ کی مجاز عدالت میں دائر کی جاتی ہے۔ عدالت بچے کی فلاح، درخواست گزار کی اہلیت، گھر کے حالات اور رضامندی یا دستبرداری کے دستیاب ثبوت کا جائزہ لے سکتی ہے۔

عدالتی حکم کے بعد نادرا میں بچے کا ریکارڈ، ب فارم یا دیگر شناختی دستاویزات درست کرانے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ سرپرستی کا حکم حیاتیاتی والدین سے نسب ختم نہیں کرتا، اس لیے وراثت، نام اور سفری دستاویزات کے معاملات پہلے سمجھنا ضروری ہے۔

لیہ میں وکیل کی ضرورت کب پیش آتی ہے؟

  • جب بچے کے حیاتیاتی والدین موجود ہوں، مگر ان کی رضامندی، شناخت یا تحریری بیان عدالت کے سامنے پیش کرنا ہو۔
  • جب بچہ کسی یتیم خانے، چائلڈ پروٹیکشن ادارے یا رشتہ دار کی تحویل میں ہو اور اس کی قانونی سرپرستی لینا مقصود ہو۔
  • جب پیدائش کا اندراج، ب فارم، والدین کا نام یا نادرا کا ریکارڈ عدالت کے حکم سے درست کرانے کی ضرورت ہو۔
  • جب بچے کے موجودہ سرپرست، رشتہ دار یا دوسرے دعوے دار درخواست کی مخالفت کر رہے ہوں۔
  • جب درخواست گزار بیرونِ ملک رہتا ہو، غیر ملکی شریک حیات رکھتا ہو، یا بچے کو بیرونِ ملک لے جانے کا ارادہ ہو۔
  • جب عدالت کے حکم کے بعد تحویل، ملاقات، پاسپورٹ، سفر یا بچے کی تعلیم اور طبی فیصلوں سے متعلق الگ مسئلہ پیدا ہو۔

وکیل کا بنیادی کام درست عدالت کا تعین، درخواست اور حلف نامے تیار کرنا، نوٹس کی تعمیل، شہادت پیش کرنا اور نادرا یا دیگر اداروں کے ساتھ حکم پر عمل کرانا ہوتا ہے۔

لیہ میں لاگو اہم قوانین

گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ، 1890: یہ قانون نابالغ کی سرپرستی اور شخص یا جائیداد سے متعلق سرپرست مقرر کرنے کے عدالتی اصول بیان کرتا ہے۔ عدالت کا مرکزی معیار بچے کی فلاح ہے، نہ کہ صرف درخواست گزار کی خواہش۔

فیملی کورٹس ایکٹ، 1964: خاندانی نوعیت کے معاملات میں مجاز فیملی کورٹ کے دائرہ اختیار اور طریقۂ کار سے متعلق بنیادی قانون ہے۔ سرپرستی یا تحویل کی درخواست کے لیے لیہ میں متعلقہ عدالت کا درست فورم وکیل سے تصدیق کرنا ضروری ہے۔

پنجاب ڈیسٹی ٹیوٹ اینڈ نیگلیکٹڈ چلڈرن ایکٹ، 2004: یہ پنجاب میں بے سہارا اور نظرانداز بچوں کے تحفظ اور متعلقہ ادارہ جاتی اقدامات سے متعلق ہے۔ ایسے بچے کی سرپرستی میں چائلڈ پروٹیکشن حکام کی رپورٹ، رضامندی یا عدالتی ہدایات اہم ہو سکتی ہیں۔

پاکستان میں ایسا جامع قانون موجود نہیں جو مغربی معنی میں مکمل adoption کے ذریعے حیاتیاتی نسب خودکار طور پر تبدیل کر دے۔ اسی لیے ہر کیس میں سرپرستی، کفالت، تحویل، نام، وراثت اور سفری اجازت کے اثرات الگ جانچنے چاہییں۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

کیا لیہ میں بچے کو قانونی طور پر گود لیا جا سکتا ہے؟

پاکستانی قانون میں عموماً مکمل قانونی adoption کے بجائے بچے کی سرپرستی یا کفالت کا عدالتی حکم لیا جاتا ہے۔ یہ حکم بچے کی دیکھ بھال کا اختیار دے سکتا ہے، مگر حیاتیاتی نسب اور وراثتی حیثیت خودکار طور پر تبدیل نہیں کرتا۔

سرپرستی کی درخواست کہاں دائر ہوتی ہے؟

درخواست عام طور پر اس عدالت میں دائر ہوتی ہے جسے نابالغ کی سرپرستی کے معاملے میں اختیار حاصل ہو۔ لیہ میں متعلقہ فیملی کورٹ یا مقررہ گارڈین جج کا تعین بچے کی رہائش اور کیس کے حالات سے ہوتا ہے۔

درخواست گزار کے لیے بنیادی اہلیت کیا ہے؟

عدالت عمر، کردار، مالی اور رہائشی حالات، صحت، بچے سے تعلق اور محفوظ ماحول فراہم کرنے کی صلاحیت دیکھ سکتی ہے۔ صرف رشتہ دار ہونا کافی نہیں؛ بچے کی فلاح ہر کیس میں بنیادی معیار رہتی ہے۔

کیا حیاتیاتی والدین کی رضامندی لازمی ہے؟

رضامندی اہم ثبوت ہو سکتی ہے، لیکن ہر معاملے میں اس کا قانونی اثر یکساں نہیں ہوتا۔ اگر والدین دستیاب نہ ہوں، اختلاف کریں یا ان کی حیثیت واضح نہ ہو تو عدالت نوٹس، شہادت اور بچے کی فلاح کی بنیاد پر فیصلہ کر سکتی ہے۔

کون سی دستاویزات عموماً درکار ہوتی ہیں؟

درخواست گزار کے شناختی کارڈ، رہائش، ازدواجی حیثیت، آمدن اور بچے سے متعلق دستیاب پیدائش یا شناختی ریکارڈ درکار ہو سکتے ہیں۔ حیاتیاتی والدین، موجودہ سرپرست یا ادارے کے بیانات اور تصاویر بھی حالات کے مطابق شامل کیے جا سکتے ہیں۔

سرپرستی کا مقدمہ مکمل ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

مدت مقرر نہیں ہوتی، کیونکہ نوٹس، والدین کی دستیابی، پولیس یا ادارہ جاتی رپورٹ اور اعتراضات سے وقت بدلتا ہے۔ غیر متنازع معاملہ چند ماہ میں آگے بڑھ سکتا ہے، جبکہ اختلافی کیس زیادہ عرصہ لے سکتا ہے۔

لیہ میں وکیل کی فیس کتنی ہوتی ہے؟

فیس کی کوئی ایک سرکاری مقررہ شرح نہیں بتائی جا سکتی۔ رقم کیس کی نوعیت، دستاویزات، پیشیوں، اعتراضات اور بعد کی نادرا کارروائی پر منحصر ہوتی ہے، اس لیے تحریری فیس معاہدہ پہلے لینا بہتر ہے۔

کیا عدالت کے حکم کے بعد بچے کا نام تبدیل ہو جاتا ہے؟

سرپرستی کا حکم خود بخود حیاتیاتی والدین کا نام ختم نہیں کرتا۔ نام یا والدین کے ریکارڈ میں تبدیلی کے لیے عدالت کے حکم، متعلقہ قواعد اور نادرا کی الگ جانچ درکار ہو سکتی ہے۔

کیا سرپرست بچے کو بیرونِ ملک لے جا سکتا ہے؟

صرف سرپرستی کا حکم ہر سفر یا مستقل منتقلی کے لیے کافی نہیں بھی ہو سکتا۔ پاسپورٹ، والدین کی رضامندی، عدالت کی اجازت اور امیگریشن کے تقاضے الگ سے پورے کرنا پڑ سکتے ہیں۔

کیا سرپرست بچے کی جائیداد کا انتظام کر سکتا ہے؟

بچے کی جائیداد کے بارے میں سرپرست کے اختیارات عدالت اور گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ کے تحت محدود ہو سکتے ہیں۔ فروخت، رہن یا بڑے مالی فیصلوں کے لیے الگ عدالتی اجازت درکار ہو سکتی ہے۔

کیا سرپرستی سے بچے کو وراثت خودکار طور پر ملتی ہے؟

سرپرستی بذاتِ خود حیاتیاتی اولاد جیسی وراثتی حیثیت پیدا نہیں کرتی۔ وصیت، ہبہ یا دیگر جائز مالی انتظامات کے بارے میں مقامی وکیل سے ذاتی حالات کے مطابق مشورہ لینا چاہیے۔

اگر درخواست مسترد ہو جائے تو کیا دوبارہ کارروائی ممکن ہے؟

عدالت کے فیصلے کی وجوہات دیکھ کر اپیل، نظرثانی یا نئی درخواست کا راستہ معلوم کیا جا سکتا ہے۔ ہر صورت میں نئے حقائق یا بچے کی بدلتی فلاحی صورتحال کا قانونی اثر الگ جانچا جاتا ہے۔

لیہ میں سرکاری اور مستند وسائل

  • ضلع عدلیہ لیہ اور متعلقہ فیملی کورٹ یا گارڈین جج: سرپرستی، تحویل، نوٹس، شہادت اور عدالتی حکم سے متعلق کارروائی کا فورم فراہم کرتے ہیں۔
  • پنجاب چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو: بے سہارا یا خطرے سے دوچار بچوں کے تحفظ، بحالی، رپورٹ اور ادارہ جاتی حوالگی میں کردار ادا کرتا ہے۔
  • نادرا: عدالتی حکم اور قابلِ قبول دستاویزات کی بنیاد پر بچے کے شناختی ریکارڈ، ب فارم اور متعلقہ خاندانی معلومات کی کارروائی کرتا ہے۔

وکیل تلاش کرنے اور مقرر کرنے کے اگلے اقدامات

  1. پہلے بچے کی موجودہ رہائش، والدین یا سرپرست کی حیثیت، پیدائش کا ریکارڈ اور کسی سابقہ عدالتی حکم کی فہرست بنائیں۔ یہ تیاری ایک سے تین دن میں ہو سکتی ہے۔
  2. لیہ میں ایسے وکیل سے ابتدائی ملاقات کریں جو فیملی کورٹ، سرپرستی اور بچوں کے معاملات میں باقاعدہ مقدمات کرتا ہو۔ دو یا تین وکلا سے طریقۂ کار اور فورم کے بارے میں رائے لیں۔
  3. وکیل سے تحریری طور پر پوچھیں کہ درخواست کس عدالت میں دائر ہوگی، کن افراد کو نوٹس دیا جائے گا اور کون سی دستاویزات ابھی نامکمل ہیں۔
  4. فیس، عدالتی خرچ، نقول، نوٹس، ممکنہ اضافی پیشیوں اور نادرا کی بعد کی کارروائی کے اخراجات الگ الگ تحریری طور پر طے کریں۔
  5. شناختی کارڈ، تصاویر، رہائش اور آمدن کے ثبوت، نکاح یا ازدواجی حیثیت کے کاغذات، بچے کا پیدائش ریکارڈ اور رضامندی کے بیانات جمع کریں۔
  6. درخواست دائر ہونے کے بعد ہر پیشی، نوٹس کی تعمیل، رپورٹ اور اعتراض کا ریکارڈ محفوظ رکھیں۔ غیر متنازع کیس میں ابتدائی عدالتی مراحل چند ہفتوں میں شروع ہو سکتے ہیں۔
  7. حکم ملنے کے بعد مصدقہ نقل حاصل کریں اور نادرا، پاسپورٹ یا چائلڈ پروٹیکشن ادارے میں عمل درآمد کے لیے وکیل سے الگ چیک لسٹ بنوائیں۔

Lawzana مستند قانونی ماہرین کی منتخب اور پہلے سے جانچی گئی فہرست کے ذریعے لیہ میں بہترین وکلا اور لا فرمز تلاش کرنے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔ ہمارا پلیٹ فارم وکلا اور لا فرمز کی درجہ بندی اور تفصیلی پروفائل پیش کرتا ہے، جن کی مدد سے آپ قانونی شعبوں، بشمول گود لینا، تجربے اور کلائنٹس کی رائے کی بنیاد پر موازنہ کر سکتے ہیں۔

ہر پروفائل میں فرم کے قانونی شعبوں کی تفصیل، کلائنٹ ریویوز، ٹیم کے ارکان اور پارٹنرز، قیام کا سال، بولی جانے والی زبانیں، دفاتر کے مقامات، رابطہ معلومات، سوشل میڈیا پر موجودگی اور شائع شدہ مضامین یا وسائل شامل ہوتے ہیں۔ ہمارے پلیٹ فارم پر زیادہ تر فرمز انگریزی بولتی ہیں اور مقامی اور بین الاقوامی دونوں طرح کے قانونی معاملات کا تجربہ رکھتی ہیں۔

لیہ, پاکستان میں اعلیٰ درجہ کی لا فرمز سے تیزی کے ساتھ، محفوظ طریقے سے اور بلا وجہ الجھن کے تخمینہ حاصل کریں۔

اعلان لاتعلقی:

اس صفحے پر دی گئی معلومات صرف عمومی آگاہی کے لیے ہیں اور قانونی مشورہ نہیں ہیں۔ ہم مواد کی درستی اور معنویت کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن قانونی معلومات وقت کے ساتھ بدل سکتی ہیں اور قانون کی تعبیر مختلف ہو سکتی ہے۔ اپنی صورتحال کے لیے مخصوص مشورہ ہمیشہ کسی مستند قانونی ماہر سے لیں۔

اس صفحے کے مواد کی بنیاد پر کیے گئے یا نہ کیے گئے اقدامات کی تمام ذمہ داری سے ہم بری الذمہ ہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ کوئی معلومات غلط یا پرانی ہے تو براہ کرم ہم سے رابطہ کریں، اور ہم اس کا جائزہ لے کر مناسب صورت میں اسے درست کر دیں گے۔