Lawzana Lawzana Logo
وکیل تلاش کریں

لاہور میں پناہ کے بہترین وکلا

اپنی ضرورت ہمیں بتائیں، لا فرمز خود آپ سے رابطہ کریں گی۔

مفت۔ 2 منٹ لگتے ہیں۔

Frasat & Partners Law Firm
لاہور, پاکستان
مشاورت مفت · 15 منٹ

2007 میں قائم
ٹیم میں 10 افراد
English
Urdu
امیگریشن پناہ ملک بدری اور اخراج کا دفاع +15 مزید
Frasat & Partners Law Firm is a premier, full-service Pakistani law firm headquartered in Lahore. The Law Firm is built on a foundation of legal excellence, commercial pragmatism, and partner-led accountability. As trusted Strategic Legal Partners, we engineer sophisticated legal strategies...
Malhi Law Associates
لاہور, پاکستان
مشاورت مفت · 15 منٹ

2019 میں قائم
ٹیم میں 25 افراد
Urdu
English
Spanish
Portuguese
Hungarian
Malhi Law Associates is a leading law firm in Lahore, providing strategic legal representation to individuals, families, overseas Pakistanis, and businesses. Our advocates regularly appear before the Family Courts, Civil Courts, Sessions Courts, Banking Courts, Consumer Courts, Special Courts, and...
Rao & Virk international law firm
لاہور, پاکستان

2020 میں قائم
ٹیم میں 10 افراد
English
Norwegian Bokmål
Urdu
RAO & VIRK International Law Firm specializes in family, civil, and criminal cases, as well as corporate legal solutions in Pakistan for foreigners and overseas Pakistanis. With strong ties to Norway, the UK, and Pakistan, we provide expert legal services in Norwegian, English, and Urdu with...
Raza & Associates
لاہور, پاکستان

2000 میں قائم
ٹیم میں 50 افراد
Urdu
English
Welcome To Raza & AssociatesRaza & Associates Helps Clients In Ensuring That IP Assets Add To The Business Profitability Rather Than To Its Overhead Costs.We act as our clients’ partners-in-growth by providing value advice to optimize strategies for establishment, protection and...
First Women Law Firm
لاہور, پاکستان

2014 میں قائم
ٹیم میں 6 افراد
We are a Tightly-woven network of active, assertive, experienced, sensible, rational, & impartial women advocates at your disposal in Lahore - Consistent, self-reliant, and independent lawyers in Pakistan. Building the foundation of the women-law firm on vision and values.Our Core-Focus is...
Saad Ahsan Law Company
لاہور, پاکستان

2003 میں قائم
ٹیم میں 70 افراد
Urdu
English
Saad Ahsan Law Company and Immigration Law Firm is Founded by Ahsan Khaliq who is a worldwide expert in global Residency & Citizenship by Investment & immigration. We launched our platform first in the industry in 2003 and citizenship by investment schemes in 2010-2013. Being a pioneer of...
SALEEM & SARIM LAW FIRM (R)
لاہور, پاکستان
مشاورت مفت · 1 گھنٹہ

2015 میں قائم
ٹیم میں 19 افراد
English
Urdu
Hindi
About: Saleem & Sarim Law FirmEstablished in 2015, Comprising specialists and expert LAWYERS of their own fields, has the honour of playing its role in many leading and landmark judgments of the High Court. We operate in almost all the cities of Punjab and major cities of Pakistan. Online...
Surridge and Beecheno
لاہور, پاکستان

1948 میں قائم
ٹیم میں 200 افراد
Urdu
English
Correspondent lawyers all acrossPakistan to conduct mattersThe Firm, with its principal office in Karachi, now has four partners and twenty-seven associates and has branch office in Lahore. The Firm also has correspondent lawyers all across Pakistan to conduct matters on the instructions of...
Legal Bridge LLP
لاہور, پاکستان

2021 میں قائم
ٹیم میں 10 افراد
Urdu
English
LEGALBRIDGE aspires to be the foremost innovative law firm by building long-term relationships with clients and law practitioner based on reciprocity, trust and highest standards of professional ethics. By adopting new models for the delivery of legal services, we strive to redefine the role that a...
جہاں ہمارا ذکر ہوا

لاہور میں پناہ کی درخواست کا عملی طریقہ

لاہور میں پناہ کی درخواست عموماً غیر ملکی شخص کے تحفظ، امیگریشن حیثیت اور ملک بدری کے خطرے سے متعلق ہوتی ہے۔ پاکستان 1951 کے پناہ گزین کنونشن اور 1967 کے پروٹوکول کا فریق نہیں، اس لیے یہاں پناہ کے لیے الگ جامع قانون موجود نہیں۔

عملی طور پر اقوام متحدہ کا ادارہ برائے پناہ گزین، یعنی یو این ایچ سی آر، اپنی ذمہ داری کے تحت بعض افراد کی پناہ گزین حیثیت کا تعین کرتا ہے۔ درخواست گزار کو لاہور میں اپنی شناخت، پاکستان میں موجودگی، سابقہ حالات اور واپس جانے کے خطرے سے متعلق قابل اعتماد معلومات دینی پڑ سکتی ہیں۔

امیگریشن ریکارڈ، ویزا، رجسٹریشن دستاویز، گرفتاری یا ملک بدری کے نوٹس کی نوعیت کے مطابق فورم بدل سکتا ہے۔ اسی لیے درخواست جمع کرانے سے پہلے لاہور میں غیر ملکیوں اور پناہ گزین معاملات کا تجربہ رکھنے والے وکیل سے رائے لینا مفید ہے۔

کن حالات میں لاہور کا وکیل ضروری ہو سکتا ہے

  • یو این ایچ سی آر نے ابتدائی درخواست مسترد کی ہو، اضافی وضاحت طلب کی ہو، یا نظرثانی کا طریقہ سمجھ نہ آ رہا ہو۔
  • پولیس نے ویزا ختم ہونے، شناختی دستاویز یا قیام کی اجازت سے متعلق پوچھ گچھ کی ہو، یا حراست کا خطرہ ہو۔
  • وزارت داخلہ، امیگریشن حکام یا کسی دوسرے سرکاری ادارے نے ملک بدری، واپسی یا حراست سے متعلق نوٹس دیا ہو۔
  • درخواست گزار کے پاس پاسپورٹ، ویزا، رجسٹریشن دستاویز یا سفر کے ریکارڈ میں تضاد موجود ہو۔
  • خاندان کے افراد، نابالغ بچوں، شریک حیات یا بیمار شخص کو درخواست میں شامل کرنے کے طریقے کی ضرورت ہو۔
  • مذہب، نسل، قومیت، سیاسی رائے، صنف یا کسی مخصوص سماجی گروہ سے تعلق کے باعث ظلم یا سنگین نقصان کا خطرہ ثابت کرنا مشکل ہو۔

وکیل سرکاری ادارے کے سامنے آپ کی نمائندگی، تحریری جواب، دستاویزات کی ترتیب اور قانونی درخواست تیار کر سکتا ہے۔ تاہم کوئی وکیل پناہ ملنے، انٹرویو کے نتیجے یا ملک بدری رکنے کی ضمانت نہیں دے سکتا۔

لاہور میں لاگو اہم قوانین اور قواعد

غیر ملکیوں کا قانون، 1946 پاکستان میں غیر ملکی شہریوں کے داخلے، قیام اور روانگی سے متعلق بنیادی قانون ہے۔ اس کے تحت حکومت غیر ملکیوں کے قیام اور ملک بدری سے متعلق اختیارات استعمال کر سکتی ہے۔

غیر ملکیوں کا حکم، 1951 غیر ملکیوں کے داخلے، اجازت نامے، قیام کی شرائط اور متعلقہ انتظامی تقاضوں کی تفصیل فراہم کرتا ہے۔ ویزا یا قیام کی شرط کی خلاف ورزی پناہ کی درخواست کے باوجود الگ امیگریشن مسئلہ بن سکتی ہے۔

پاکستان شہریت ایکٹ، 1951 شہریت کے حصول، نسب، پیدائش، رجسٹریشن اور متعلقہ معاملات کو منظم کرتا ہے۔ پناہ گزین حیثیت خود بخود پاکستانی شہریت نہیں دیتی، اور شہریت کا سوال الگ قانونی شرائط کے تحت دیکھا جاتا ہے۔

یہ قوانین بالترتیب 1946، 1951 اور 1951 کے بنیادی قانونی فریم ورک کا حصہ ہیں۔ امیگریشن پالیسی، افغان شہریوں کی دستاویزات اور سرکاری ہدایات وقتاً فوقتاً بدل سکتی ہیں، اس لیے موجودہ نوٹس کی تصدیق ضروری ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

کیا پاکستان میں پناہ کی درخواست دینے کے لیے وکیل لازمی ہے؟

وکیل رکھنا لازمی نہیں، لیکن پیچیدہ یا خطرناک معاملے میں قانونی مدد اہم ہو سکتی ہے۔ وکیل آپ کی کہانی، دستاویزات اور سرکاری کارروائی کو منظم کرنے میں مدد دیتا ہے۔

لاہور میں پناہ کی درخواست کہاں سے شروع ہوتی ہے؟

عام طور پر درخواست گزار یو این ایچ سی آر کے متعلقہ رجسٹریشن یا تحفظ طریقہ کار سے رابطہ کرتا ہے۔ موجودہ دفتر، اپائنٹمنٹ اور رجسٹریشن کا طریقہ سرکاری یا ادارے کے تازہ اعلان سے معلوم کرنا چاہیے۔

کیا پناہ کے لیے پاکستان میں قانونی ویزا ہونا ضروری ہے؟

درست ویزا یا قیام کی اجازت مددگار ہوتی ہے، مگر ظلم یا سنگین نقصان کے خطرے کا سوال اس سے الگ ہو سکتا ہے۔ ویزا ختم ہونے کی صورت میں امیگریشن خلاف ورزی کا الگ مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے، جس پر فوراً وکیل سے مشورہ لینا چاہیے۔

پناہ گزین حیثیت کے لیے کون سی باتیں ثابت کرنا پڑتی ہیں؟

درخواست گزار کو عموماً اپنی شناخت، قومیت، سابقہ حالات اور واپسی پر ظلم یا سنگین نقصان کے حقیقی خطرے کی وضاحت دینی ہوتی ہے۔ بیان میں تاریخوں، مقامات اور واقعات کا تسلسل ہونا چاہیے، جبکہ جھوٹی یا بناوٹی معلومات نقصان دہ ہو سکتی ہیں۔

کون سی دستاویزات ساتھ لے جانی چاہییں؟

پاسپورٹ، شناختی دستاویز، ویزا، رجسٹریشن کاغذات، پولیس یا عدالتی ریکارڈ، طبی رپورٹس اور خطرے سے متعلق پیغامات مددگار ہو سکتے ہیں۔ اصل دستاویزات محفوظ رکھیں اور جمع کرانے سے پہلے صاف نقول تیار کریں۔

لاہور میں پناہ کا وکیل کتنی فیس لیتا ہے؟

فیس معاملے کی پیچیدگی، سماعتوں کی تعداد، ترجمے اور دستاویزات کی تیاری کے مطابق بدلتی ہے۔ وکیل سے تحریری فیس معاہدہ لیں، جس میں ابتدائی مشورہ، درخواست، نمائندگی، اضافی سماعت اور سرکاری اخراجات الگ واضح ہوں۔

کیا یو این ایچ سی آر کی خدمات کی فیس ہوتی ہے؟

یو این ایچ سی آر کی پناہ گزین رجسٹریشن اور تحفظ خدمات کے لیے عام طور پر فیس نہیں لی جاتی۔ کسی شخص کو پیسے دے کر رجسٹریشن، انٹرویو یا مثبت فیصلے کی ضمانت دینے والے سے محتاط رہیں۔

پناہ کی درخواست کا فیصلہ کتنے عرصے میں آتا ہے؟

مدت مقرر نہیں ہوتی اور ہر معاملہ الگ ہوتا ہے۔ انٹرویو، دستاویزات، سکیورٹی جانچ، خاندان کے افراد اور ادارے کے زیر التوا معاملات سے وقت بڑھ سکتا ہے۔

اگر درخواست مسترد ہو جائے تو کیا کیا جا سکتا ہے؟

فیصلے میں دی گئی ہدایات کے مطابق نظرثانی یا اپیل کا راستہ موجود ہو سکتا ہے۔ مقررہ مدت گزرنے سے پہلے فیصلہ، وجوہات اور متعلقہ ہدایات کسی وکیل یا مجاز ادارے سے سمجھ لیں۔

کیا پناہ کی درخواست ملک بدری خود بخود روک دیتی ہے؟

صرف درخواست جمع کرانا ہر صورت میں ملک بدری یا حراست کو خود بخود نہیں روکتا۔ اگر ملک بدری کا نوٹس یا فوری خطرہ ہو تو وکیل سے ہنگامی قانونی تحفظ اور متعلقہ حکام کے سامنے درخواست کے بارے میں مشورہ لیں۔

کیا خاندان کے افراد کو ایک ہی درخواست میں شامل کیا جا سکتا ہے؟

خاندانی معاملات میں طریقہ کار افراد کی عمر، رشتے، قومیت اور موجودہ دستاویزات کے مطابق بدل سکتا ہے۔ شریک حیات، بچوں اور زیر کفالت افراد کی معلومات ابتدا ہی میں درست طور پر فراہم کریں۔

کیا پناہ گزین حیثیت سے پاکستانی شہریت مل جاتی ہے؟

نہیں، پناہ گزین حیثیت پاکستانی شہریت کے برابر نہیں ہوتی۔ شہریت کے لیے پاکستان شہریت ایکٹ، 1951 کے تحت الگ قانونی بنیاد اور مقررہ کارروائی درکار ہو سکتی ہے۔

لاہور میں سرکاری اور مستند وسائل

  • اقوام متحدہ کا ادارہ برائے پناہ گزین، پاکستان: پناہ گزین حیثیت کے تعین، تحفظ، رجسٹریشن سے متعلق رہنمائی اور بعض قانونی یا سماجی خدمات کے لیے متعلقہ طریقہ کار فراہم کرتا ہے۔ لاہور میں دستیاب خدمات اور اوقات کی تصدیق براہ راست اس ادارے سے کریں۔
  • وزارت ریاستیں و سرحدی علاقہ جات: پناہ گزینوں، افغان شہریوں اور متعلقہ حکومتی پالیسی کے معاملات میں وفاقی سطح کا کردار ادا کرتی ہے۔ اس کی تازہ ہدایات دستاویزات اور انتظامی پالیسی سمجھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
  • پنجاب میں افغان مہاجرین کے چیف کمشنریٹ کا متعلقہ دفتر: رجسٹریشن، افغان شہریوں کی دستاویزات اور صوبائی سطح کے انتظامی معاملات میں متعلقہ سرکاری رابطہ فراہم کر سکتا ہے۔ موجودہ دفتر اور دائرہ اختیار کی پہلے تصدیق کریں۔

لاہور میں پناہ کے وکیل کی تلاش اور تقرری کے اگلے مراحل

  1. اپنے معاملے کی مختصر زمانی ترتیب بنائیں، جس میں پاکستان آمد، ویزا، اہم واقعات، پولیس رابطے اور کسی بھی نوٹس کی تاریخیں شامل ہوں۔ یہ تیاری ایک سے دو دن میں کی جا سکتی ہے۔
  2. پاسپورٹ، ویزا، رجسٹریشن کاغذات، شناختی ثبوت، طبی ریکارڈ اور خطرے سے متعلق شواہد کی نقول تیار کریں۔ اصل دستاویزات کسی وکیل یا ایجنٹ کے پاس بلا رسید نہ چھوڑیں۔
  3. لاہور بار ایسوسی ایشن یا پنجاب بار کونسل کے دستیاب وکلا کے ریکارڈ سے ایسے وکیل تلاش کریں جو امیگریشن، غیر ملکیوں یا انسانی حقوق کے معاملات کا عملی تجربہ رکھتا ہو۔ دو یا تین وکلا سے ابتدائی مشورہ لینا مناسب ہے۔
  4. ہر وکیل سے پوچھیں کہ وہ یو این ایچ سی آر کے طریقہ کار، غیر ملکیوں کے قانون، حراست اور ملک بدری کے معاملات میں کیا کردار ادا کرے گا۔ کامیابی کی ضمانت، جعلی دستاویز یا غیر معمولی فوری نتیجے کا دعویٰ خطرے کی علامت ہے۔
  5. تحریری فیس معاہدہ حاصل کریں، جس میں مشاورت، درخواست، انٹرویو کی تیاری، سماعت، ترجمہ، نقل اور اضافی کام کی فیس الگ درج ہو۔ ادائیگی کی رسید ضرور لیں۔
  6. فوری گرفتاری یا ملک بدری کا خطرہ ہو تو اسی دن وکیل سے ہنگامی مشورہ کریں اور متعلقہ نوٹس کی نقل دکھائیں۔ معمول کے معاملے میں ابتدائی دستاویزات مکمل ہونے کے بعد ایک ہفتے کے اندر قانونی حکمت عملی طے کرنا بہتر ہے۔
  7. وکیل سے تمام جمع شدہ درخواستوں، رسیدوں، فیصلوں اور آئندہ تاریخوں کی نقول لیں۔ پتے یا فون نمبر بدلنے پر متعلقہ اداروں اور وکیل کو فوراً تحریری اطلاع دیں۔

Lawzana مستند قانونی ماہرین کی منتخب اور پہلے سے جانچی گئی فہرست کے ذریعے لاہور میں بہترین وکلا اور لا فرمز تلاش کرنے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔ ہمارا پلیٹ فارم وکلا اور لا فرمز کی درجہ بندی اور تفصیلی پروفائل پیش کرتا ہے، جن کی مدد سے آپ قانونی شعبوں، بشمول پناہ، تجربے اور کلائنٹس کی رائے کی بنیاد پر موازنہ کر سکتے ہیں۔

ہر پروفائل میں فرم کے قانونی شعبوں کی تفصیل، کلائنٹ ریویوز، ٹیم کے ارکان اور پارٹنرز، قیام کا سال، بولی جانے والی زبانیں، دفاتر کے مقامات، رابطہ معلومات، سوشل میڈیا پر موجودگی اور شائع شدہ مضامین یا وسائل شامل ہوتے ہیں۔ ہمارے پلیٹ فارم پر زیادہ تر فرمز انگریزی بولتی ہیں اور مقامی اور بین الاقوامی دونوں طرح کے قانونی معاملات کا تجربہ رکھتی ہیں۔

لاہور, پاکستان میں اعلیٰ درجہ کی لا فرمز سے تیزی کے ساتھ، محفوظ طریقے سے اور بلا وجہ الجھن کے تخمینہ حاصل کریں۔

اعلان لاتعلقی:

اس صفحے پر دی گئی معلومات صرف عمومی آگاہی کے لیے ہیں اور قانونی مشورہ نہیں ہیں۔ ہم مواد کی درستی اور معنویت کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن قانونی معلومات وقت کے ساتھ بدل سکتی ہیں اور قانون کی تعبیر مختلف ہو سکتی ہے۔ اپنی صورتحال کے لیے مخصوص مشورہ ہمیشہ کسی مستند قانونی ماہر سے لیں۔

اس صفحے کے مواد کی بنیاد پر کیے گئے یا نہ کیے گئے اقدامات کی تمام ذمہ داری سے ہم بری الذمہ ہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ کوئی معلومات غلط یا پرانی ہے تو براہ کرم ہم سے رابطہ کریں، اور ہم اس کا جائزہ لے کر مناسب صورت میں اسے درست کر دیں گے۔