“Thanks to Advocate Malik Sana Ullah Awan of Malix Law Office, Faisalabad, we won our child support case! He successfully enhanced my child’s maintenance allowan …”
اپنی ضرورت ہمیں بتائیں، لا فرمز خود آپ سے رابطہ کریں گی۔
مفت۔ 2 منٹ لگتے ہیں۔
خاندانی وکیل مقرر کرنے کی مفت گائیڈ
“Thanks to Advocate Malik Sana Ullah Awan of Malix Law Office, Faisalabad, we won our child support case! He successfully enhanced my child’s maintenance allowan …”
اس فہرست کی 1 فرم اپنے بارے میں کیا کہتی ہے۔ جب کوئی فرم کوئی بات نہیں بتاتی تو ہم اندازہ لگانے کے بجائے اسے "درج نہیں" شمار کرتے ہیں۔
کوئی زبان صرف اسی وقت شمار ہوتی ہے جب فرم اسے اپنی پروفائل میں درج کرے۔
سب سے پرانی 2006 کی ہے؛ وسطانیہ 2006 ہے۔
فرموں کی اپنی پروفائلز سے شمار کیا گیا۔ فرمیں یہ معلومات اپنے ڈیش بورڈ میں اپ ڈیٹ رکھتی ہیں۔ اپنی فرم کی پروفائل اپ ڈیٹ کریں
ہمارے 1 قانونی سوال بچوں کی معاونت کے بارے میں پاکستان میں دیکھیں اور وکلا کے جوابات پڑھیں، یا اپنے سوالات مفت پوچھیں.
جی ہاں۔ بچے کی دستاویزات پر بدستور والد کا نام ہی درج ہوگا، اور قانونی اعتبار سے یہی درست پوزیشن ہے۔ طلاق نکاح کو ختم کرتی ہے؛ اس سے بچے کی ولدیت تبدیل نہیں ہوتی۔ پیدائش کے سرٹیفکیٹ اور نادرا...
مکمل جواب پڑھیںبچوں کا نان نفقہ عموماً رہائش، خوراک، لباس، تعلیم، علاج اور روزمرہ ضروریات کے مناسب اخراجات پر مشتمل ہوتا ہے۔ ملتان میں ایسا دعویٰ متعلقہ خاندانی عدالت میں دائر کیا جاتا ہے، جہاں فریقین کی آمدنی، بچے کی ضروریات اور خاندانی حالات دیکھے جاتے ہیں۔
دعویٰ عموماً بچے کی والدہ یا قانونی سرپرست دائر کرتے ہیں، مگر عدالت کی اجازت اور حالات کے مطابق طریقہ مختلف ہو سکتا ہے۔ ملتان کی خاندانی عدالت میں درخواست کے ساتھ نکاح، بچے کا پیدائشی سرٹیفکیٹ، رہائش، تعلیمی اخراجات اور دوسرے متعلقہ ثبوت جمع کیے جاتے ہیں۔
عدالت کارروائی کے دوران عبوری ماہانہ نان نفقہ مقرر کر سکتی ہے۔ حتمی رقم مقرر کرتے وقت والد کی حقیقی آمدنی، مالی صلاحیت، بچے کی عمر، تعلیم، علاج اور ضروری اخراجات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔
خاندانی عدالتیں ایکٹ 1964 خاندانی عدالت کے دائرۂ اختیار اور کارروائی کا بنیادی قانون ہے۔ اس کے تحت نان نفقہ، حضانت، ملاقات اور متعلقہ خاندانی دعوے سنے جاتے ہیں، جبکہ کارروائی عام دیوانی مقدمے کے مقابلے میں نسبتاً مخصوص طریقے سے چلتی ہے۔
مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 مسلمانوں کے خاندانی معاملات سے متعلق بنیادی قانون ہے۔ اس کے تحت بیوی اور بچوں کے نان نفقہ سے متعلق اصول اور مصالحتی کونسل کا کردار بعض حالات میں relevant ہو سکتا ہے، تاہم بچوں کے رقم کے دعوے کے لیے خاندانی عدالت کا راستہ بھی استعمال ہوتا ہے۔
گارڈینز اینڈ وارڈز ایکٹ 1890 حضانت اور سرپرستی کے معاملات میں لاگو ہو سکتا ہے۔ یہ قانون نان نفقہ کا مکمل متبادل نہیں، لیکن جب حضانت، قانونی سرپرستی اور بچے کی فلاح ایک ہی تنازع میں شامل ہوں تو اہم ہو جاتا ہے۔
دعویٰ متعلقہ خاندانی عدالت میں دائر ہوتا ہے، عموماً وہاں جہاں بچہ یا درخواست گزار رہتا ہو یا جہاں فریقین کے حالات کے مطابق عدالت کو اختیار حاصل ہو۔ درست عدالت کا تعین مقامی وکیل دستاویزات اور رہائش کی بنیاد پر کرتا ہے۔
ہاں، ماں نابالغ بچوں کی طرف سے دعویٰ دائر کر سکتی ہے۔ عدالت بچے کی ضروریات اور والد کی مالی استطاعت دیکھ کر عبوری یا حتمی رقم مقرر کر سکتی ہے۔
طلاق سے والد کی بچوں کے نان نفقہ کی ذمہ داری عموماً ختم نہیں ہوتی۔ بچوں کی عمر، ضروریات اور فریقین کے ذاتی قانون کے مطابق عدالت رقم اور مدت طے کرتی ہے۔
عدالت بچے کی خوراک، لباس، تعلیم، علاج، رہائش اور دیگر مناسب اخراجات دیکھتی ہے۔ والد کی آمدنی، ملازمت، کاروبار، اثاثے اور زیر کفالت افراد بھی رقم کے تعین میں اہم ہو سکتے ہیں۔
خاندانی عدالت کارروائی کے دوران عبوری ماہانہ نان نفقہ مقرر کر سکتی ہے۔ مدت مقررہ نہیں، کیونکہ یہ سمن کی تعمیل، جواب، دستاویزات اور عدالت کے شیڈول پر منحصر ہوتی ہے۔
صرف بے روزگاری کا دعویٰ خود بخود ذمہ داری ختم نہیں کرتا۔ عدالت یہ دیکھ سکتی ہے کہ والد کام کرنے کے قابل ہے یا نہیں، اس کی اصل مالی حالت کیا ہے، اور کیا اس نے آمدنی چھپائی ہے۔
بچے کا پیدائشی سرٹیفکیٹ، ب فارم، نکاح یا طلاق کے کاغذات، والد کا پتہ، اسکول فیس، علاج کے بل اور رہائش کے اخراجات مفید ہوتے ہیں۔ والد کی ملازمت، کاروبار یا بینک لین دین سے متعلق دستیاب ثبوت بھی شامل کیے جا سکتے ہیں۔
وکیل کی فیس مقدمے کی نوعیت، سماعتوں کی متوقع تعداد، دستاویزات اور نفاذ کی ضرورت کے مطابق بدلتی ہے۔ وکیل سے تحریری طور پر ابتدائی فیس، ہر پیشی کی فیس، عدالتی اخراجات اور اپیل یا نفاذ کی الگ فیس پوچھنی چاہیے۔
کوئی مقررہ مدت ہر مقدمے پر لاگو نہیں ہوتی۔ غیر حاضری، پتے کی تصدیق، آمدنی کے ثبوت، گواہی، صلح کی کوشش اور اپیل سے وقت بڑھ سکتا ہے، اس لیے وکیل سے مقامی عدالت کے موجودہ شیڈول کے مطابق محتاط اندازہ لینا چاہیے۔
حکم پر عمل درآمد کے لیے اسی خاندانی عدالت میں درخواست دی جا سکتی ہے۔ عدالت دستیاب قانونی طریقوں کے ذریعے بقایا رقم کی وصولی اور حکم کی تعمیل پر کارروائی کر سکتی ہے۔
یہ الگ قانونی دعوے ہیں، مگر حالات کے مطابق ایک ہی خاندانی تنازع میں دونوں شامل ہو سکتے ہیں۔ نان نفقہ مالی ذمہ داری سے متعلق ہے، جبکہ حضانت میں بچے کی فلاح، رہائش اور دیکھ بھال بنیادی سوالات ہوتے ہیں۔
عدالت سمن کی تعمیل اور والد کو اطلاع دینے کے قانونی طریقے اختیار کر سکتی ہے۔ بیرون ملک آمدنی یا اثاثوں کے ثبوت کے لیے اضافی دستاویزات اور نفاذ کی الگ حکمت عملی درکار ہو سکتی ہے۔
Lawzana قانونی ماہرین کی ہماری ڈائریکٹری کے ذریعے ملتان میں بہترین وکلا اور لا فرمز تلاش کرنے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔ ہمارا پلیٹ فارم وکلا اور لا فرمز کی درجہ بندی اور تفصیلی پروفائل پیش کرتا ہے، جن کی مدد سے آپ قانونی شعبوں، بشمول بچوں کی معاونت، تجربے اور کلائنٹس کی رائے کی بنیاد پر موازنہ کر سکتے ہیں۔
ہر پروفائل میں فرم کے قانونی شعبوں کی تفصیل، کلائنٹ ریویوز، ٹیم کے ارکان اور پارٹنرز، قیام کا سال، بولی جانے والی زبانیں، دفاتر کے مقامات، رابطہ معلومات، سوشل میڈیا پر موجودگی اور شائع شدہ مضامین یا وسائل شامل ہوتے ہیں۔ ہمارے پلیٹ فارم پر زیادہ تر فرمز انگریزی بولتی ہیں اور مقامی اور بین الاقوامی دونوں طرح کے قانونی معاملات کا تجربہ رکھتی ہیں۔
ملتان, پاکستان میں اعلیٰ درجہ کی لا فرمز سے تیزی کے ساتھ، محفوظ طریقے سے اور بلا وجہ الجھن کے تخمینہ حاصل کریں۔
اعلان لاتعلقی:
اس صفحے پر دی گئی معلومات صرف عمومی آگاہی کے لیے ہیں اور قانونی مشورہ نہیں ہیں۔ ہم مواد کی درستی اور معنویت کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن قانونی معلومات وقت کے ساتھ بدل سکتی ہیں اور قانون کی تعبیر مختلف ہو سکتی ہے۔ اپنی صورتحال کے لیے مخصوص مشورہ ہمیشہ کسی مستند قانونی ماہر سے لیں۔
اس صفحے کے مواد کی بنیاد پر کیے گئے یا نہ کیے گئے اقدامات کی تمام ذمہ داری سے ہم بری الذمہ ہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ کوئی معلومات غلط یا پرانی ہے تو براہ کرم ہم سے رابطہ کریں، اور ہم اس کا جائزہ لے کر مناسب صورت میں اسے درست کر دیں گے۔