Lawzana Lawzana Logo

پاکستان میں جنرل لٹیگیشن کے بہترین وکلا

اپنی ضرورت ہمیں بتائیں، لا فرمز خود آپ سے رابطہ کریں گی۔

مفت۔ 2 منٹ لگتے ہیں۔

یا شہر منتخب کر کے اپنی تلاش محدود کریں:

Asma Lawyers In Pakistan
لاہور, پاکستان

2003 میں قائم
ٹیم میں 9 افراد
English
Panjabi
Urdu
مقدمات اور تنازعات جنرل لٹیگیشن کلاس ایکشن +9 مزید
·       Court appearances and representation ·       Property, Family, Divorce, Child Custody  NADRA documentation and correction ·       Guardianship Family court matters...
MR LEGAL INN
لاہور, پاکستان
مشاورت مفت · 15 منٹ

2015 میں قائم
ٹیم میں 8 افراد
English
Urdu
Arabic
French
مقدمات اور تنازعات جنرل لٹیگیشن متبادل تنازعاتی حل، مصالحت اور ثالثی +9 مزید
MR LEGAL INN is a full service law Firm, which specializes in advising local and international businesses on all legal aspects of doing business in Pakistan. Our Firm provides a broad spectrum of premium quality legal advisory and dispute resolution services from Corporate, Commercial, Banking...
Sharif Law Associates
سیالکوٹ, پاکستان
مشاورت مفت · 15 منٹ

2014 میں قائم
ٹیم میں 5 افراد
English
Urdu
Chinese
Malay
Hindi
Panjabi
مقدمات اور تنازعات جنرل لٹیگیشن اپیل +7 مزید
شریف لاء ایسوسی ایٹس کے بارے میں شریف لاء ایسوسی ایٹس سیالکوٹ میں قائم ایک قانونی فرم ہے جس کی سربراہی رانا نوید شریف، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ کر رہے ہیں، جو ڈسٹرکٹ...
Jeelani Law Empire Karachi Pakistan
کراچی, پاکستان

2015 میں قائم
ٹیم میں 18 افراد
English
Urdu
مقدمات اور تنازعات جنرل لٹیگیشن اپیل +8 مزید
جیلانی لاء ایمپائر کراچی میں قائم کردہ ایک قانونی فرم ہے جو 2015 سے افراد، خاندانوں، کاروباری اداروں اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو پیشہ ورانہ قانونی مشاورت،...

2007 میں قائم
ٹیم میں 12 افراد
Urdu
English
مقدمات اور تنازعات جنرل لٹیگیشن متبادل تنازعاتی حل، مصالحت اور ثالثی +8 مزید
2007 میں قائم شدہ، الائیڈ لیگل سروسز لاہور کی ایک قابلِ اعتماد لاء فرم ہے، جو افراد، خاندانوں، کاروباری اداروں اور اوورسیز پاکستانیوں کو پیشہ ورانہ قانونی خدمات...
AK Legal Associates
پشاور, پاکستان
مشاورت 30 منٹ کے لیے Rs 15,000
فی گھنٹہ فیس Rs 30,000

2025 میں قائم
ٹیم میں 5 افراد
English
Urdu
Persian
مقدمات اور تنازعات جنرل لٹیگیشن متبادل تنازعاتی حل، مصالحت اور ثالثی +9 مزید
AK Legal Associates (LAWYERS. CONSULTANTS. ADVISORS) is a top tier law firm based in Peshawar, providing its clients the best legal remedies for all the legal issues. We deal our clients in the most professional way so as to advance not only legal solutions but also to resolve the matter so as to...
MAH & Co.
کراچی, پاکستان

2010 میں قائم
ٹیم میں 15 افراد
English
Urdu
Sindhi
Panjabi
مقدمات اور تنازعات جنرل لٹیگیشن متبادل تنازعاتی حل، مصالحت اور ثالثی +9 مزید
MAH & Co. کراچی، پاکستان میں قائم ایک ہمہ جہت قانونی فرم ہے، جو قانون کے متعدد شعبوں میں ماہرانہ قانونی مشاورت اور نمائندگی فراہم کرتی ہے۔ خواہ آپ کو کارپوریٹ...

2006 میں قائم
ٹیم میں 15 افراد
Urdu
English
Panjabi
Kashmiri
Hindi
مقدمات اور تنازعات جنرل لٹیگیشن اپیل +9 مزید
مالکسانہ لیگل کنسلٹنٹس ® پاکستان | ملک ثناء اللہ اعوان، ایڈووکیٹ ہائی کورٹ پاکستان میں فیملی، فوجداری اور دیوانی مقدمات کے قابلِ اعتماد وکیل | سمندر پار پاکستانیوں...
Advocate M Nawaz Law Chamber
کراچی, پاکستان
مشاورت مفت · 15 منٹ

2016 میں قائم
ٹیم میں 10 افراد
English
Sindhi
Urdu
مقدمات اور تنازعات جنرل لٹیگیشن اپیل +5 مزید
A Professional law chamber specialized in litigation, registration of documents,trial advocacy and appellate advocacy, and handles cases of criminal litigation, family litigation and civil litigation, having expertise in dealing with cyber crime cases as well, this law office have track record of...
Ashraf Law Chambers
کراچی, پاکستان
مشاورت مفت · 15 منٹ

2018 میں قائم
ٹیم میں 5 افراد
Urdu
English
مقدمات اور تنازعات جنرل لٹیگیشن بین الاقوامی ثالثی +9 مزید
اشرف لاء چیمبرز پاکستان میں صفِ اول کی ایک لا فرم ہے جو میری ٹائم، فارماسیوٹیکل، تعلیم اور ڈی مرجرز و ڈائیویسٹمنٹس کے شعبوں میں اختصاصی مہارت رکھتی ہے۔ ہم فارما،...
جہاں ہمارا ذکر ہوا

پاکستان جنرل لٹیگیشن وکلا کے جواب دیے گئے قانونی سوالات

ہمارے 3 قانونی سوالات جنرل لٹیگیشن کے بارے میں پاکستان میں دیکھیں اور وکلا کے جوابات پڑھیں، یا اپنے سوالات مفت پوچھیں.

میں لاہور میں تعمیراتی کام کے غیر ادا شدہ واجبات کے لیے دیوانی دعویٰ کیسے دائر کروں، اور عدالت کن شواہد کو قبول کرے گی؟
جنرل لٹیگیشن
لاہور میں ایک کلائنٹ نے متعدد یاد دہانیوں اور واٹس ایپ پیغامات کے باوجود مجھے تزئین و آرائش کے کام کی واجب الادا رقم ادا نہیں کی ہے۔ میرے پاس دستخط شدہ ورک آرڈر، کام کی تصاویر اور جزوی ادائیگی کی رسیدیں موجود ہیں۔ میں اس کے قانونی مراحل، متوقع...
وکیل کا جواب KBL & Associates کی جانب سے

جی ہاں، سب سے پہلے قانونی نوٹس بھیجیں۔ اس کے نتیجے میں اکثر رقم وصول ہو جاتی ہے، اور یہ عدالت کے سامنے یہ ثابت کرتا ہے کہ آپ نے کلائنٹ کو ایک منصفانہ موقع دیا تھا۔ مرحلہ 1 —...

مکمل جواب پڑھیں
1 جواب •
پاکستان میں تحریری معاہدے کے بغیر واجب الادا قرض کی وصولی کے لیے دیوانی دعویٰ کیسے دائر کیا جائے؟
جنرل لٹیگیشن
میں نے ایک دوست کو رقم ادھار دی تھی اور ثبوت کے طور پر میرے پاس صرف واٹس ایپ چیٹس اور بینک ٹرانسفر کی رسیدیں ہیں۔ وہ مسلسل ٹال مٹول سے کام لے رہا ہے اور اب رقم سے انکاری ہے۔ کیا میں اب بھی دعویٰ دائر کر سکتا ہوں،...
وکیل کا جواب KBL & Associates کی جانب سے

جی ہاں، آپ اب بھی دعویٰ دائر کر سکتے ہیں۔ قانونِ شہادت آرڈر کا آرٹیکل 17 کہتا ہے کہ قرض کے معاہدات تحریری شکل میں اور دو گواہوں کی موجودگی میں ہونے چاہئیں۔ تاہم، عدالتوں نے قرار دیا ہے کہ...

مکمل جواب پڑھیں
1 جواب •
پاکستان میں ایک دیوانی مقدمے کو باقاعدہ سماعت (ٹرائل) کے مرحلے تک پہنچنے میں کتنا عرصہ لگتا ہے، اور اس عمل کو تیز کرنے کے لیے میں کیا اقدامات کر سکتا ہوں؟
مقدمات اور تنازعات جنرل لٹیگیشن
میں نے کراچی کی ایک ضلعی عدالت میں جائیداد کے تنازعے کا مقدمہ دائر کیا ہے اور سماعتیں مسلسل ملتوی ہو رہی ہیں۔ فریقِ مخالف التوا مانگ کر تاخیری حربے استعمال کر رہا ہے، اور مجھے اس طویل عدالتی عمل کے باعث تشویش ہے۔ غیر ضروری تاخیر سے بچنے کے...
وکیل کا جواب KBL & Associates کی جانب سے

کراچی میں عام دیوانی مقدمات میں التواء کی کثرت کے باعث عموماً دو سے پانچ سال کا عرصہ لگ جاتا ہے۔ کارروائی کو تیز کرنے کے قانونی ذرائع درج ذیل ہیں: عبوری ریلیف: جائیداد اور موجودہ صورتحال (اسٹیٹس کو) کے...

مکمل جواب پڑھیں
1 جواب •

پاکستان میں عمومی قانونی چارہ جوئی کا عملی دائرہ

پاکستان میں عمومی قانونی چارہ جوئی سے مراد شہری، فوجداری، تجارتی، خاندانی اور بعض آئینی تنازعات میں عدالت یا متعلقہ قانونی فورم کے ذریعے حق حاصل کرنا ہے۔ مقدمہ عموماً سول عدالت، مجسٹریٹ، سیشن عدالت، بینکنگ کورٹ، فیملی کورٹ یا ہائی کورٹ کے سامنے دائر ہوتا ہے۔

دیوانی مقدمے میں دعویٰ، تحریری جواب، دستاویزات، گواہی، جرح اور فیصلے کے بعد ڈگری پر عمل درآمد شامل ہوسکتا ہے۔ فوجداری معاملے میں ایف آئی آر، تفتیش، چالان، ضمانت، فرد جرم، شہادت اور ٹرائل کے مراحل پیش آتے ہیں۔

مقدمے کی نوعیت، صوبے، عدالت اور دعوے کی مالیت کے مطابق طریقہ کار مختلف ہوسکتا ہے۔ وکیل ابتدائی فورم، درست فریقین، مدتِ دعویٰ، درکار ثبوت اور ممکنہ عبوری حکم کا جائزہ لیتا ہے۔

کن حالات میں وکیل کی ضرورت پڑ سکتی ہے؟

  • زمین یا مکان پر قبضہ، ملکیت، حد بندی، انتقال، رجسٹری یا وراثتی حصے کا تنازع ہو۔
  • قرض، چیک، کاروباری معاہدے، شراکت داری، سپلائی یا ادائیگی سے متعلق رقم کا دعویٰ کرنا ہو۔
  • پولیس ایف آئی آر درج نہ کرے، گرفتاری کا خدشہ ہو، یا ضمانت اور قبل از گرفتاری ضمانت درکار ہو۔
  • خاندانی عدالت میں نان نفقہ، تنسیخ نکاح، حق مہر، بچوں کی حوالگی یا ملاقات کا معاملہ ہو۔
  • کسی سرکاری ادارے کے حکم، ٹیکس کارروائی، سیل، جرمانے یا لائسنس سے متعلق قانونی چیلنج درکار ہو۔
  • پہلے سے جاری مقدمے میں جواب، شہادت، جرح، اپیل، نظرثانی یا ڈگری پر عمل درآمد کا مرحلہ آچکا ہو۔

ہر تنازع لازماً مقدمے تک نہیں پہنچتا۔ قانونی نوٹس، مصالحت یا ثالثی کے ذریعے کم وقت اور کم خرچ میں حل ممکن ہوسکتا ہے، مگر اس کا فیصلہ حقائق اور دستاویزات دیکھ کر کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں لاگو اہم قوانین

ضابطۂ دیوانی، 1908: یہ دیوانی مقدمات کے بنیادی طریقہ کار، دعوے، سمن، عبوری احکامات، فیصلے اور ڈگری پر عمل درآمد سے متعلق اہم قانون ہے۔ اس کی دفعات اور صوبائی عدالتی قواعد مقدمے کے فورم اور نوعیت کے مطابق دیکھی جاتی ہیں۔

قانونِ میعاد، 1908: یہ مختلف دعووں، اپیلوں اور درخواستوں کے لیے مقررہ مدت سے متعلق ہے۔ تاخیر بعض حالات میں ناقابلِ سماعت ہونے کا سبب بن سکتی ہے، اس لیے واقعے کی تاریخ اور سابقہ کارروائی کا ریکارڈ محفوظ رکھنا ضروری ہے۔

قانونِ شہادت کا حکم، 1984: یہ دستاویزی اور زبانی شہادت، گواہوں، جرح اور متعلقہ ثبوت کے اصول بیان کرتا ہے۔ عدالت میں پیش کیا جانے والا ہر کاغذ یا بیان خود بخود قابلِ قبول نہیں ہوتا۔

فوجداری مقدمات میں ضابطۂ فوجداری، 1898 اور تعزیراتِ پاکستان، 1860 بھی اہم ہیں۔ آئینی درخواستوں، صوبائی قوانین اور خصوصی عدالتوں کے معاملات میں متعلقہ قانون الگ سے لاگو ہوسکتا ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات

کیا ہر قانونی تنازع کے لیے وکیل رکھنا ضروری ہے؟

ہر معاملے میں قانونی طور پر وکیل رکھنا لازمی نہیں، مگر پیچیدہ مقدمات میں خود پیروی خطرناک ہوسکتی ہے۔ دعوے کی میعاد، درست عدالت، ثبوت اور عدالتی طریقہ کار کی غلطی سے حق متاثر ہوسکتا ہے۔

پاکستان میں عمومی قانونی چارہ جوئی کا مقدمہ کہاں دائر ہوتا ہے؟

مقدمہ عموماً اس عدالت میں دائر ہوتا ہے جہاں واقعہ پیش آیا، مدعا علیہ رہتا ہے، یا جائیداد واقع ہے۔ عدالت کا انتخاب دعوے کی نوعیت، مالیت اور متعلقہ قانون پر منحصر ہوتا ہے۔

سول اور فوجداری مقدمے میں بنیادی فرق کیا ہے؟

سول مقدمہ عموماً رقم، ملکیت، معاہدے یا کسی حق کے نفاذ سے متعلق ہوتا ہے۔ فوجداری مقدمہ جرم، ریاستی کارروائی، گرفتاری، ضمانت اور سزا سے متعلق ہوتا ہے، اگرچہ ایک ہی واقعے سے دونوں قسم کے مقدمات پیدا ہوسکتے ہیں۔

مقدمہ دائر کرنے کے لیے کون سی دستاویزات درکار ہوتی ہیں؟

شناختی دستاویز، معاہدہ، رسیدیں، رجسٹری، انتقال، نوٹس، ایف آئی آر، میڈیکل ریکارڈ، پیغامات اور سابقہ عدالتی کاغذات متعلقہ ہوسکتے ہیں۔ اصل دستاویزات محفوظ رکھیں اور وکیل کو مکمل اور درست نقول فراہم کریں۔

مقدمہ دائر کرنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

سادہ درخواست یا ضمانت بعض اوقات مختصر مدت میں دائر ہوسکتی ہے، جبکہ باقاعدہ دیوانی یا فوجداری مقدمے میں کئی ماہ یا اس سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔ مدت عدالت کا بوجھ، فریقین کی حاضری، شہادت، التوا اور اپیل پر منحصر ہوتی ہے۔

وکیل کی فیس کتنی ہوتی ہے؟

فیس کی کوئی ایک ملک گیر مقررہ شرح نہیں ہوتی۔ رقم مقدمے کی نوعیت، عدالت، فوری نوعیت، سماعتوں کی تعداد، دستاویزات اور وکیل کے طے شدہ معاہدے کے مطابق بدلتی ہے۔

کیا غریب شخص کو مفت قانونی مدد مل سکتی ہے؟

بعض صوبائی ادارے، ضلعی قانونی بااختیاری کمیٹیاں اور عدالت سے متعلق قانونی امدادی نظام مستحق افراد کو مدد فراہم کرسکتے ہیں۔ اہلیت عموماً آمدن، مقدمے کی نوعیت اور دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر جانچی جاتی ہے۔

کیا پولیس ایف آئی آر درج نہ کرے تو کیا کیا جاسکتا ہے؟

پہلے متعلقہ پولیس افسران کو تحریری درخواست اور اس کا ثبوت دیا جاسکتا ہے۔ حقائق کے مطابق مجسٹریٹ یا متعلقہ عدالت سے قانونی چارہ جوئی، یا ہائی کورٹ میں مناسب درخواست کا راستہ دستیاب ہوسکتا ہے۔

کیا مقدمہ دائر ہونے سے پہلے قانونی نوٹس ضروری ہے؟

ہر مقدمے میں قانونی نوٹس لازمی نہیں ہوتا۔ بعض معاہدوں، سرکاری اداروں، چیک، کرایہ داری یا خصوصی قوانین میں نوٹس اہم یا ضروری ہوسکتا ہے، اس لیے مقدمہ دائر کرنے سے پہلے متعلقہ قانون کا جائزہ لینا چاہیے۔

عبوری حکم یا حکمِ امتناعی کب مل سکتا ہے؟

اگر فوری نقصان، جائیداد میں تبدیلی، رقم کی منتقلی یا حق کے ضائع ہونے کا معقول خدشہ ہو تو عبوری ریلیف مانگا جاسکتا ہے۔ عدالت عموماً ابتدائی حق، ممکنہ نقصان اور فریقین کے توازن کو دیکھتی ہے۔

کیا وکیل عدالت سے باہر مصالحت کراسکتا ہے؟

ہاں، وکیل قانونی نوٹس، مذاکرات، مصالحت یا ثالثی کے ذریعے تنازع حل کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ تحریری تصفیہ واضح شرائط، دستخط اور واجب الادا رقم یا ذمہ داریوں کے ساتھ تیار ہونا چاہیے۔

فیصلے کے خلاف اپیل کب کی جاسکتی ہے؟

اپیل کا حق عدالت، مقدمے کی نوعیت اور متعلقہ قانون پر منحصر ہوتا ہے۔ مقررہ مدت مختلف ہوسکتی ہے، اس لیے فیصلے کی مصدقہ نقل فوراً حاصل کرکے اپیل یا نظرثانی کی آخری تاریخ معلوم کرنی چاہیے۔

سرکاری اور مستند قانونی وسائل

  • پاکستان بار کونسل: وکلا کے پیشہ ورانہ نظم، ضابطۂ اخلاق اور قانونی تعلیم و اندراج سے متعلق امور میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ وکیل کی پیشہ ورانہ حیثیت کی تصدیق کے لیے متعلقہ بار کونسل سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔
  • قانون و انصاف کمیشنِ پاکستان: عدالتی اصلاحات، قانونی تحقیق، عدالتی اعداد و شمار اور انصاف کی فراہمی سے متعلق سرکاری کام انجام دیتا ہے۔
  • متعلقہ ہائی کورٹ یا ضلعی عدالت: مقدمات کی فہرست، عدالتی احکامات، کاز لسٹ اور بعض عدالتی خدمات سے متعلق سرکاری معلومات فراہم کرتی ہے۔ صوبے کے مطابق متعلقہ عدالت کی سرکاری ویب سائٹ یا دفتر استعمال کیا جائے۔

وکیل تلاش کرنے اور مقرر کرنے کے اگلے اقدامات

  1. پہلے دو سے تین دن: واقعے کی تاریخ، فریقین کے نام، مطلوبہ نتیجہ اور تمام متعلقہ دستاویزات کی فہرست بنائیں۔ اصل کاغذات الگ محفوظ رکھیں اور نقول تیار کریں۔
  2. تین سے سات دن: اپنے ضلع، متعلقہ عدالت اور مقدمے کی نوعیت میں کام کرنے والے کم از کم دو وکلا سے ابتدائی مشورہ لیں۔ ان سے ممکنہ فورم، قانونی بنیاد، خطرات اور متبادل حل پوچھیں۔
  3. اسی ہفتے: وکیل کے اندراج، بار سے وابستگی اور متعلقہ مقدمات کے تجربے کی تصدیق کریں۔ صرف اشتہار یا غیر مصدقہ آن لائن دعوے کی بنیاد پر فیصلہ نہ کریں۔
  4. فیس طے کرتے وقت: تحریری طور پر پیشہ ورانہ فیس، عدالتی فیس، نقل، سمن، سفری اخراجات، ہر پیشی کی فیس اور اپیل کی الگ لاگت واضح کریں۔ ادائیگی کی رسید یا تحریری ریکارڈ محفوظ رکھیں۔
  5. مقدمہ دائر کرنے سے پہلے: میعاد، دائرۂ اختیار، درست فریقین، مطلوبہ ریلیف اور ممکنہ عبوری درخواست کا جائزہ مکمل کرائیں۔ دیوانی یا فوجداری کارروائی کے ممکنہ نتائج بھی سمجھیں۔
  6. مقرر کرنے کے بعد: وکالت نامہ، شناختی دستاویزات اور ضروری حلف نامے مکمل کریں۔ ہر پیشی کے بعد اگلی تاریخ، عدالتی حکم اور مطلوبہ دستاویزات کا تحریری ریکارڈ رکھیں۔

Lawzana قانونی ماہرین کی ہماری ڈائریکٹری کے ذریعے پاکستان میں بہترین وکلا اور لا فرمز تلاش کرنے میں آپ کی مدد کرتا ہے۔ ہمارا پلیٹ فارم وکلا اور لا فرمز کی درجہ بندی اور تفصیلی پروفائل پیش کرتا ہے، جن کی مدد سے آپ قانونی شعبوں، بشمول جنرل لٹیگیشن، تجربے اور کلائنٹس کی رائے کی بنیاد پر موازنہ کر سکتے ہیں۔

ہر پروفائل میں فرم کے قانونی شعبوں کی تفصیل، کلائنٹ ریویوز، ٹیم کے ارکان اور پارٹنرز، قیام کا سال، بولی جانے والی زبانیں، دفاتر کے مقامات، رابطہ معلومات، سوشل میڈیا پر موجودگی اور شائع شدہ مضامین یا وسائل شامل ہوتے ہیں۔ ہمارے پلیٹ فارم پر زیادہ تر فرمز انگریزی بولتی ہیں اور مقامی اور بین الاقوامی دونوں طرح کے قانونی معاملات کا تجربہ رکھتی ہیں۔

پاکستان میں اعلیٰ درجہ کی لا فرمز سے تیزی کے ساتھ، محفوظ طریقے سے اور بلا وجہ الجھن کے تخمینہ حاصل کریں۔

اعلان لاتعلقی:

اس صفحے پر دی گئی معلومات صرف عمومی آگاہی کے لیے ہیں اور قانونی مشورہ نہیں ہیں۔ ہم مواد کی درستی اور معنویت کو یقینی بنانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن قانونی معلومات وقت کے ساتھ بدل سکتی ہیں اور قانون کی تعبیر مختلف ہو سکتی ہے۔ اپنی صورتحال کے لیے مخصوص مشورہ ہمیشہ کسی مستند قانونی ماہر سے لیں۔

اس صفحے کے مواد کی بنیاد پر کیے گئے یا نہ کیے گئے اقدامات کی تمام ذمہ داری سے ہم بری الذمہ ہیں۔ اگر آپ سمجھتے ہیں کہ کوئی معلومات غلط یا پرانی ہے تو براہ کرم ہم سے رابطہ کریں، اور ہم اس کا جائزہ لے کر مناسب صورت میں اسے درست کر دیں گے۔